December is a
considered as sad month in Urdu poetry.
In December Urdu poetry you will find different things, like sadness and
hope all together. Here I am posting some poetry about December. You can enjoy
December Poetry here. But If you are liked this collection please don’t forget
to comment us. Your comments about December poetry is very valuable for us
because we will update this page at daily bases in throughout December. If you
need any Poem or Ghazal about December or December Urdu Poetry then please
comment us , we will try to upload poetry about December. Here enjoy Urdu
Poetry about December.
مجھ سے پوچھتے ہیں لوگ
کس لئے دسمبر میں
یوں اداس پھرتا ہوں
کوئی دکھ چھپاتا ہوں
یا کسی کے جانے کا
سوگ پھر مناتا ہوں
آپ میرے البم کا صفحہ صفحہ دیکھیں گے
آئیے دکھاتا ہوں ضبط آزماتا ہوں
سردیوں کے موسم میں گرم گرم کافی کے
چھوٹے چھوٹے سپ لے کر
کوئی مجھ سے کہتا تھا
ہائے اس دسمبر میں کس بلا کی سردی ہے
کتنا ٹھنڈا موسم ہےکتنی یخ ہوائیں ہیں
آپ بھی عجب شے ہیں
اتنی سخت سردی میں ہوکے اتنے بےپروا
جینز اور ٹی شرٹ میں کس مزے سے پھرتے ہیں
شال بھی مجھے دی کوٹ بھی اوڑھا ڈالا
پھر بھی کانپتی ہوں میں
چلئیے اب شرافت سے پہں لیجیے سوئیٹر
آپ کے لئے بن لیا تھا دودن میں
کتنا مان تھا اس کو میری ،اپنی چاہت پر
"اب بھی ہر دسمبر میں اس یاد آتی ہے"
گرم گرم کافی کے چھوٹے چھوٹے سپ لیتی
ہاتھ گال پر رکھے حیرت و تعجب سے
مجھ کو دیکھتی رہتی اور مسکرادیتی
شوخ و شنگ لہجے میںمجھ سے پھر وہ کہتی تھی
اتنے سرد موسم میں آدھی سلیوز کی ٹی شرٹ
"میل شاوانیزم" ہے
کتنی مختلف تھی وہ
سب سے منفرد تھی وہ
------------------------------------
اسے کہنا دسمبر لوٹ آئےگا
مگرجو خون جسموں میں
سو جائے گا وہ نہ جاگے گا
اسے کہنا ہوائیں سرد ہیں اور زندگی کی کہرے کی
دیواروں پر لرزاں ہے
اسے کہنا شگوفے ٹہنیوں پر سو رہے ہیں
اور ان پر برف کی چادر بچھی ہے
اسے کہنا اگر سورج نہ نکلے گا
تو برف کیسے پگھلے گی
اسے کہنا لوٹ آئے
مگرجو خون جسموں میں
سو جائے گا وہ نہ جاگے گا
اسے کہنا ہوائیں سرد ہیں اور زندگی کی کہرے کی
دیواروں پر لرزاں ہے
اسے کہنا شگوفے ٹہنیوں پر سو رہے ہیں
اور ان پر برف کی چادر بچھی ہے
اسے کہنا اگر سورج نہ نکلے گا
تو برف کیسے پگھلے گی
اسے کہنا لوٹ آئے

Hello!!!
0 comments: